Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

  • Fazail-e-Jihad
  • Yahood ki 40 Beemariyan
  • Books Maulana Muhammad Masood Azhar
  • Banat-e-Ayesha Khawateen k liye Risala
  • Duroos-e-Jihad
  • Books Maulana Muhammad Masood Azhar
  • Musalman Bachay Monthly Magazine
  • Fath-ul-Jawwad fi Maarif Ayat-il-Jihad
  • Emani Hamsafar
  • Tuhfa-e-Saadat
  • Books Maulana Muhammad Masood Azhar
  • Azadi Mukamal ya Adhoori
  • Books Maulana Muhammad Masood Azhar
  • 7 Din Roshni k Jazeere Per
Previous Next

Armghan-e-Madina

جہاد تم پر واجب ہے ہر امیر کے ساتھ، وہ نیک ہو یا فاسق۔ نماز تم پر لازم ہے ہر مسلمان کے پیچھے وہ نیک ہو یا فاسق، اگرچہ کبائر کا مرتکب ہی کیوں نہ ہو۔(ابوداؤد)

 

زندگی آمد برائے بندگی

Madinah Madinah

اللہ تبارک و تعالیٰ ہمیں اپنے دین پر استقامت نصیب فرمائیں۔ آمین

اللہ تبارک و تعالیٰ کا دین اُس کے بندوں کے لیے بہت بڑی نعمت ہے۔ اسی سے بندگی کے تقاضے پورے ہوتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ ”بندہ“ ہو،اور ”بندگی“ سے خالی ہو تو وہ کہاں کا بندہ اور کیسا بندہ!

زندگی آمد برائے بندگی

بندگی بے بندگی شرمندگی

یعنی: یہ زندگی ملی ہی بندگی کے لیے ہے اور جس بندے میں بندگی نہ ہو وہ بندہ نہیں محض عارہے اور اسے آخر کار شرمندگی ہی اُٹھانے پڑے گی۔

اللہ تبارک و تعالیٰ کے جو بندے اس کے دین کو قبول کرتے ہیں، وہ بلاشبہ ان کے لیے سعادت ہے، اور اس سعادت کا اب ایک حق یہ ہے کہ اسے سنبھال کر رکھیں اور ہر ممکن کوشش اور طریقے سے اِس کی حفاظت کریں۔

اپنے دین کی حفاظت اور اپنے دین پر استقامت رکھنا بذاتِ خود ایک بڑا اہم ترین مقصد ہے، اور یہ چیز شریعت میں مطلوب ہے، اور یہ بات بھی ظاہر ہے کہ شریعت میں جو چیز بھی مطلوب ہوتی ہے وہ ضروربالضرور بندوں کے لیے خیر اور بھلائی کاسبب ہوتی ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ بسا اوقات آخرت کے ساتھ ساتھ دنیا کی بھلائی بھی موجود ہوتی ہے اور بسا اوقات دنیا کی عارضی بھلائی کے بجائے آخرت کی دائمی بھلائی کو ترجیح ہوتی ہے۔

اللہ تبارک و تعالیٰ کا واضح ارشاد موجودہے:

یُرِیْدُ اللہُ بِکُمُ الْیُسْرَ وَ  لَا یُرِیْدُ بِکُمُ الْعُسْرَ

”اللہ تعالیٰ تمہارے ساتھ آسانی کا ارادہ فرماتے ہیں، وہ تمہارے ساتھ مشکل کا ارادہ نہیں فرماتے“

اللہ تبارک و تعالیٰ کو اس امت کے ساتھ کتنا پیار ہے کہ اس سے خود ہی بہت سے مشکلات کو دور کردیا، ان کے لیے بہت سی آسانیاں پیدا فرمادیں ، اور پھر صرف یہی نہیں بلکہ خود اس امت کو وہ دعاء بھی سکھلادی کہ کس طرح تم نے اپنے رب سے یہ مانگنا ہے کہ وہ تم سے مشکلات دور کردے، اور پھر جب اس امت کے افراد نے وہ دعاء مانگی تو اللہ تعالیٰ نے فرمادیا کہ ہاں میں نے تمہاری دعائیں قبول کر لی ہیں۔

دیکھیے سورۃ البقرۃ کے آخر میں کس طرح یہ دعائیں سکھائی گئی ہیں کہ:

رَبَّنَا لَا تُؤَاخِذْنَا إِن نَّسِينَا أَوْ أَخْطَأْنَا ۚ رَبَّنَا وَلَا تَحْمِلْ عَلَيْنَا إِصْرًا كَمَا حَمَلْتَهُ عَلَى الَّذِينَ مِن قَبْلِنَا ۚ رَبَّنَا وَلَا تُحَمِّلْنَا مَا لَا طَاقَةَ لَنَا بِهِ ۖ وَاعْفُ عَنَّا وَاغْفِرْ لَنَا وَارْحَمْنَا ۚ أَنتَ مَوْلَانَا فَانصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكَافِرِينَ ﴿سورۃ البقرۃ:٢٨٦﴾

”اے رب ہمارے! اگر ہم بھول جائیں یا غلطی کریں تو ہمیں نہ پکڑ ۔

اے رب ہمارے! اور ہم پر بھاری بوجھ نہ رکھ جیسا تو نے ہم سے پہلے لوگوں پر رکھا تھا۔

اے رب ہمارے! اور ہم سے وہ بوجھ نہ اُٹھوا جس کی ہمیں طاقت نہیں، اور ہمیں معاف کر دے اور ہمیں بخش دے اور ہم پر رحم کر تو ہی ہمارا کارساز ہے، پس کافروں کے مقابلہ میں تو ہی ہماری مدد کر !“

سورۃ البقرۃ کو قرآن کریم کا اہم ترین حصہ قرار دیا گیا ہے اوریہ بات سمجھانے کے لیے اسے قرآن کی کوہان کہا گیا ہے کہ جس طرح اونٹ میں کوہان اس کابلند ترین حصہ بھی شمار ہوتی ہے اور اہم ترین بھی، تو اسی طرح مضامین کی جامعیت اور تفصیل کے لحاظ سے یہ سورت مبارکہ بھی اہم ترین اور بلند ترین ہے۔

اس مبارک سورت کا اختتام درج بالا دعاؤں پر ہوا ہے جس میں دو بنیادی سبق ہیں :

ایک تو یہ ہے کہ پوری شریعت کا اصل مقصد بندوں کو بندگی کے طور طریقے سکھانا ہے اور بندگی کے ان طور طریقوں میں اہم ترین طریقہ دعاء کیوں کہ دعاء مانگنے کا مطلب یہ ہے کہ بندہ یہ اقرار کر رہاہے کہ اے میرے رب! میں عاجز و درماندہ ہوں، آپ میرے رب ہیں، آپ ہر چیز پر قادر ہیں، مجھے وہی چیز مل سکتی ہے جو آپ عطاء فرمائیں گے اور جو چیز آپ مجھے عطاء نہ فرمائیں تو میں اس سے محروم ہی رہوں گا۔

جب بندہ اس طرح اپنی بندگی اور غلامی کا اعتراف کرتا ہے تو یہ چیزاسے رب کی بارگاہ میں مقبول بنا دیتی ہے کیوں کہ یہی چیز عبادت کا مغز اور روح ہے۔ اسی لیے دعاء کو عبارت کا مغز اور روح کہا گیا ہے۔

دعاء کو یہ قدر و منزلت اس لیے حاصل ہوئی ہے کیوں کہ دعاء میں انسان پوری طرح اپنے رب کی طرف متوجہ ہوتا ہے، اور اپنے رب کے ماسوا ہر چیز سے اپنی توجہ کو موڑے ہوئے ہوتا ہے، اگر دنیا کی کوئی چیز مانگ رہا ہوتا تو بھی اللہ تعالیٰ سے مانگ رہا ہوتا ہےا ور اگر آخرت کی کوئی چیز مانگ رہا ہوتا ہے تو وہ بھی اپنے رب سے مانگ رہا ہوتا ہے۔ اس طرح ”نفس“ میں خود کو جو معبود بنانے کی خواہش ہوتی ہے تو اُس وقت وہ پوری طرح دفن ہو چکی ہوتی ہے، اور نفس کی شرارت اس وقت پوری طرح مر چکی ہوتی ہے۔

 قرآن کریم میں نبی کریمﷺ کو اس شخص کی طرف متوجہ کیا گیا ہے جو اپنے نفس کو اپنا معبود بنارکھتا ہے ۔ چنانچہ فرمایا گیا ہے کہ:

أَفَرَأَيْتَ مَنِ اتَّخَذَ إِلٰهَهُ هَوَاهُ (سورۃ الجاثیۃ:23)

”کیا آپ نے دیکھا اُس شخص کو جس نے اپنی خواہشات کو اپنا معبود بنا رکھا ہے!“

حضرت امام رفاعی قدس سرہ فرماتے ہیں:

”نفس کی بدترین خواہش یہ ہے کہ غیرِ خدا پر نظر کرے،خالق کو چھوڑ کر مخلوق سے دِل لگائے۔سمجھ دار آدمی غیرِ خدا سے دِل لگا کر کیا پائے گا؟ “

اسی لیے نبی کریمﷺ نے یہ حقیقت سمجھا دی ہے کہ :

”اللہ تعالیٰ تمہاری شکلوں اور تمہارے جسموں کی طرف نہیں دیکھتے، بلکہ تمہارے اَعمال اور تمہارے دِلوں کو دیکھتے ہیں“ (صحیح مسلم)

اس حدیث شریف کا مطلب یہ ہے کہ: اللہ تعالی تمہیں تمہارے جسموں اور تمہاری صورتوں کے حساب سے ثواب اور جزاء نہیں دیں گے اور نہ ہی ان کی وجہ سے تمہیں اللہ کی خوشنودی حاصل ہوتی ہے کہ مثلا جوخوبصورت ہوا تو اس کا ثواب زیادہ اور جو بدصورت ہوا تواس کا گناہ زیادہ،بلکہ اللہ تعالیٰ کا خاص قرب ، خاص محبت، اور ثواب وجزاء تو دِل اور اَعمال سے متعلق ہے۔

اگر دل میں ایمان ہو، اچھے اوصاف ہوں، پاک جذبات ہوں،اور دل کے انہی اچھے اوصاف اور پاک جذبات کی وجہ سے اعمال بھی اچھے ہوں تو یہ بندہ اللہ تعالیٰ کے قرب و محبت اور ثواب کا مستحق قرار پائے گا اور اگر اس کے برعکس دل میں کفر ہویا شرک ہو یا نفاق ہو، یا بُرے اوصاف ہوں(اللہ تعالیٰ اِن سے ہماری حفاظت فرمائے)، اور دل میں موجود انہی بُرائیوں کے ساتھ اعمال بھی ناپسندیدہ ہوں تو یہ بندہ اللہ تعالیٰ کے غضب اور عذاب کا مستحق قرار پاتا ہے۔ اسی لیے بندوں سے یہ مطالبہ ہے کہ وہ اپنے دلوں اور اعمال کو اچھا اور صاف رکھیں ۔

جو بندہ اس کی کوشش کرتا ہے اور فکر کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ سے دعاء مانگتا ہے تو اسے دین پر استقامت حاصل ہوتی ہے۔ دین پر اس کا دل جما رہتا ہے۔ دین کے متعلق وہ مضبوط رہتا ہے۔

نبی کریمﷺ نے خود اس مبارک دعاء کا اہتمام کرکے امت کو یہ دعاء سکھائی ہے جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ دین پر استقامت کتنی ضروری چیز ہے!

حضرت شہر بن حوشب فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت اُم سلمہ رضی اللہ عنہا سے دریافت کیا کہ: اے ام المومنین! جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ کے پاس ہوتے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم زیادہ تر کون سی دعا کیا کرتے تھے؟ انہوں نے جواب دیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اکثر یہ دعا کیا کرتے تھے:

يَا مُقَلِّبَ الْقُلُوْبِ ثَبِّتْ قَلْبِيْ عَلٰى دِيْنِكَ

اے دلوں کو پھیرنے والے! میرے دِل کو اپنے دِین پرپکّاکر دیجیے۔(جامع الترمذی)

دین پر استقامت والوں کو کیا نصیب ہوتا ہے؟ اس کا جواب قرآن کریم میں موجود ہے۔ ملاحظہ کیجیے کہ کتنا بڑا انعام انہیں نصیب ہوتا ہے:

”بے شک جنہوں نے کہا تھا کہ ہمارا رب الله ہے، پھر اس پر قائم رہے، تو اُن پر فرشتے اُتریں گے کہ تم خوف نہ کرو اور نہ غم کرو اور جنت میں خوش رہو جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا تھا ۔ ہم تمہارے دنیا میں بھی دوست تھے اور آخرت میں بھی اور بہشت میں تمہارے لیے ہر چیز موجود ہے جس کو تمہارا دل چاہے اور تم جو وہاں مانگو گے ملے گا ۔ بخشنے والے نہایت رحم والے کی طرف سے یہ مہمانی ہے۔ “ (سورۃ فصلت:30/31/32)

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Hamari Dawat

 

Alqalam Old years editions

شمارہ 432 سے پہلے

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor